نئی دہلی9جون (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے بڑھتی ہوئی بے روزگاری کو قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اسے حکومت کی پالیسیوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ مایاوتی نے بے روزگاری پر حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے ٹویٹ کر کہا کہ ملک میں بے روزگاری جولعنت ہے، وہ قومی مسئلہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ سالوں میں گاؤں کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح تین گنا بڑھ گئی ہے جو اس خیال کے برعکس ہے کہ شہروں کے مقابلے میں دیہات میں بے روزگاری کم رہتی ہے۔انہوں نے پوچھا کہ کیا سرکاری پالیسیاں اس کے لئے ذمہ دار نہیں ہیں؟۔ قابل ذکر ہے کہ ملک میں روزگار کی صورت حال کو لے کر حال ہی میں جاری سرکاری اعداد و شمار میں شہری علاقوں کے مقابلے میں دیہی علاقوں میں بے روزگاری کی شرح بڑھنے کی بات سامنے آئی ہے۔ یوپی کی سابق وزیر اعلی نے ریاست میں معصوم بچیوں کے خلاف تشدد کی بڑھتے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں علی گڑھ کے بعد اب ہمیر پور میں پانچویں کلاس کی معصوم سکول کو اغوا کر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور قتل کیا گیا، یہ دردناک واقعہ لوگوں کو مشتعل کر رہے ہیں، ان واقعات کی روک تھام کیلئے سماج اور حکومت کو اور زیادہ سخت اور حساس ہونے کی ضرورت ہے۔ بی ایس پی صدر نے ایئر فورس کے ایک لاپتہ طیارے کے بارے میں اب تک کوئی سراغ نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ بھارتی فضائیہ کے اے این -32 ہوائی جہاز اور اس میں سوار 13 فوجیوں کا سرحدی اروناچل پردیش میں اب تک کوئی سراغ نہ مل پانے سے عوام فطری طور پر فکر مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلاشی مہم میں فضائیہ کے کوشش اور مقامی افراد کی پہل قابل ستائش ہیں، لیکن کوئی کامیابی نہ مل پانے سے لوگوں میں بے چینی ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ پیر کو ایئر فورس کا طیارہ لاپتہ ہو گیا تھا، ایک ہفتے سے جاری تلاشی مہم کے باوجود طیارے کا اب تک کوئی سرا ع نہیں مل سکا ہے۔